محی الدین نواب

کہانیوں کے شہنشاہ اور الفاظ کے بادشاہ گر جو ہمہ وقت آسمانِ ادب پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند ضوفشانیاں کرتے رہے۔ جن کے قارئین کی تعداد ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سے بھی تجاوز ہے۔ جنہوں نے اپنے خونِ جگر سے ایسا لافانی ادب تخلیق کیا کہ پڑھنے والا انگشت بدنداں رہ گیا۔ جن کا لکھا ھوا ایک ایک لفظ معتبر سمجھا جاتا۔ جن کے الفاظ کا جادو سرچڑھ کر بولتا  جو آج بھی اپنی تحریروں میں  قارئین کے اذہان و قلوب میں زندہ ہیں ۔  محی الدین نواب نے 4 ستمبر 1930 میں مغربی بنگال کے شہر کھڑگ پور میں آنکھ کھولی۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ یہ نومولود آنے والے وقتوں میں ادب کا بے تاج شہنشاہ کہلاۓ گا۔ جن کی تحریریں لاکھوں لوگوں کے دلوں میں سما  جائیں گی۔ محی الدین نواب نے جب میدان ادب میں قدم رکھا تو ایسے ایسے شہکار تخلیق کر ڈالے کہ لوگ ان کی تحریروں کے گرد آتے چلے گۓ۔ انہوں نے ایسی لافانی کہانیاں لکھیں کہ ایک عالم ان کا دیوانہ ھو گیا۔  لوگ ان کی تحریروں کے منتظر رہنے لگے۔  ان کی نوک قلم سے ایمان کا سفر ، آدھا چہرہ، کچراگھر، شیشوں کا مسیحا، سپنے سب اپنے، اندھیر نگری، جرم وفا،شارٹ کٹ، شعلوں کے بیچ، آخری موسم، بند مٹھی، پل صراط، گندی گلی، لبادہ،شجرہ ممنوعہ،ممتا کا عذاب، دانی، قدیم رشتے جیسےشہکار تخلیق ہوۓ۔ اپنے قلم کو تاریخ کے سفر پر روانہ کیا تو۔۔۔ہندسے آنان تک۔۔۔ جیسی بے مثال کہانی منظر عام پر آئی۔ اس کا شمار سکندر اعظم پر لکھی گئی بہترین کتابوں میں ہوتا ہے۔  نگار خانوں کے لیے کہانیاں لکھیں تو وہ فلمیں باکس آفس پر کامیاب ٹھریں۔ پی ٹی وی کے لیے ڈرامہ نگاری کی تو “آدھا چہرہ، شام سے پہلے، اور سرپرست ” جیسے ڈرامے ناظرین کی آنکھوں میں سماۓ۔  محی الدین نواب کا سب سے بڑا کارنامہ دیوتا ہے جو شاہکار طویل ترین کہانی قرار پائی۔۔۔۔۔ “دیوتا” کہانی کو یہ اعزاز  حاصل ہے کہ وہ اپنے وقت کی سب سے طویل ترین کہانی قرار پائی۔  جس نے 37 سال تک قارئین کے دلوں پر راج کیا۔ اور اس کہانی کو بادل نخواستہ منطقی انجام تک پنچایا گیا۔ یہ کہانی آگے بڑھ سکتی تھی۔ مگر بات کچھ یوں تھی کہ  محی الدین نواب علالت کے سفر پر چل دیے۔ اور عارضئہ تنفس میں مبتلا ہوۓ۔ طبعیت یکسوئی کی طرف مائل نہ ہو رہی تھی۔ سانس سینے میں آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ کمزوری اس حد تک مسلط آ چکی تھی کہ حرکت پزیرائی بھی محال تھی۔ انہوں نے سوچا کہ میری کہانی کو آگے کون چلاۓ گا اس کہانی کو منطقی انجام تک پہنچانا دشوار نظرآ رہا تھا  وہ سوچتے لکھتے لکھتے نیند کے سفر پر روانہ ہو گیا تو کیا ہو گا ۔ اس کہانی کو انجام تک کون پہنچاۓ گا۔ وہ بیماری کی حالت میں کام کرتے رہے دیوتا کے اختتام کے بعد ان کے سانسوں کی کہانی بھی معددم ھونے لگی۔  بچے ھوۓ وقت کو گنی چنی سانسوں کو لیے زیست کا پر خطر سفر بھی اپنے انجام کی طرف بڑھنے لگا۔ یوں فرشتہ اجل نے ان کے زیست کی کہانی مکمل کر دی۔ اور محی الدین نواب 6 فروری 2016 کو انتقال فرما گۓ

تاریخ پیدائش 1930-09-04
تاریخ وفات2016-02-06