قتیل شفائی

قتیل شفائی کا اصل نام اورنگزیب خان ہےآپ 24 دسمبر، 1919ء کوخیبر پختونخوا ہری پورہزارہ میں پیدا ہوئے- اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔ قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی ، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور بھارت دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔انہیں صدارتی تمغا براۓ حسن کارگردگی1994 آدم جی ادبی انعام ،امیر خسرو ایوارڈ، نقوش ایوارڈ، نیز قتیل اور ان کے ادبی کارنامے کے عنوان سے بھارت کی مگھد یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہار اشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہالپوریونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔ پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا ۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دئیے گئے۔